حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انجمن صاحب الزمانؑ کرگل لداخ شعبۂ قم کے زیرِ اہتمام حسینیہ بقیت اللہ الاعظم (قم) میں ایک نہایت باوقار اور روح پرور مجلس کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد قائدِ شہیدِ امتِ اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ایؒ کے لیے ایصالِ ثواب اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنا تھا۔ اس مجلس میں علمائے کرام، فضلاء اور طلابِ علومِ دینیہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

اس موقع پر ہندوستان میں رہبرِ معظمِ انقلابِ اسلامی کے نمائندے حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عبد المجید حکیم الٰہی مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے تشریف فرما تھے۔ موصوف نے حاضرین سے تفصیلی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے امامِ شہیدؒ کی علمی، دینی اور سماجی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی سیرت و کردار کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ امامِ شہیدؒ کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک ان کا اخلاص تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ان کے چاہنے والے موجود تھے، اور ان کی شہادت کے بعد یہ حقیقت مزید واضح ہو گئی کہ آپؒ عوام کے دلوں میں کس قدر محبوب مقام رکھتے تھے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے رہبرِ معظمِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے فرمایا کہ موجودہ رہبر بھی اسی راہ و روش پر گامزن ہیں جس پر امامِ شہیدؒ گامزن تھے۔ وہ بھی اخلاص، علم، شجاعت، زہد، تقویٰ اور سادہ زندگی کے اعتبار سے ایک بہترین نمونہ ہیں۔ رہبرِ معظم عوام اور بالخصوص طلاب کی مشکلات کے حوالے سے ہمیشہ فکرمند رہتے ہیں۔
انہوں نے دین کی تبلیغ، معاشرے کی اصلاح اور امتِ مسلمہ کی فکری و اخلاقی تربیت میں علماء کے کردار کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔

خطاب سے قبل ڈاکٹر حکیم الٰہی نے انجمن صاحب الزمانؑ شعبۂ قم کے دفتر میں ذمہ داران سے ملاقات کی، جہاں ادارے کی جاری سرگرمیوں، انتظامی امور اور آئندہ منصوبوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ انہوں نے انجام دی جانے والی خدمات اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ دینی، تعلیمی اور سماجی میدان میں ادارے کی مزید ترقی اور استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔

انہوں نے ہندوستان، بالخصوص کرگل، اور مقدس شہر قم میں انجمن صاحب الزمانؑ کی جانب سے انجام دی جانے والی دینی، تعلیمی، ثقافتی اور رفاہی خدمات کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے ادارے کے تمام علماء، اساتذہ، کارکنان اور معاونین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ مستقبل میں بھی اخلاص، اتحاد اور خدمتِ دین کے جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیتا رہے گا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے طلابِ علومِ دینیہ کو خصوصی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنے قیمتی وقت سے بھرپور استفادہ کریں، حصولِ علم میں مسلسل محنت، اخلاص اور سنجیدگی کو اپنا شعار بنائیں، اخلاقِ اسلامی اور سیرتِ اہلِ بیتؑ کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں، نیز عصرِ حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا، ابلاغِ عامہ اور ڈیجیٹل ذرائع پر مہارت حاصل کریں تاکہ وہ دینِ اسلام اور معارفِ اہلِ بیتؑ کو مؤثر، حکیمانہ اور وسیع انداز میں دنیا تک پہنچا سکیں۔

مجلس کا اختتام دعا، ذکرِ اہلِ بیتؑ اور امتِ مسلمہ کی سلامتی، اتحاد، امن و استحکام، نیز دینی مراکز کی مزید ترقی و سربلندی کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا۔









آپ کا تبصرہ